2021 July 28
کیا قرآن سر پر رکھ کر دعا کرنا بدعت ہے ؟ + اسکین
مندرجات: ١٩٦٥ تاریخ اشاعت: ٠٢ June ٢٠٢١ - ١٣:٢٩ مشاہدات: 280
سوال و جواب » شیعہ عقائد
کیا قرآن سر پر رکھ کر دعا کرنا بدعت ہے ؟ + اسکین

 

بسم الله الرحمن الرحيم

مقالہ کی فارسی  pdf  دیکھنےکے لئے  نیچے کی ایڈرس ہر کلیک کریں :

valiasr-aj/file/document/image_user_vasaeq_qoranroysar.pdf

اچھی کیفیت کے ساتھ اسکین دیکھنے کے لئے نیچے کے ایڈرس پر کلیک کریں

valiasr-aj/file/compres/image_user_vasaeq_qoranroysar.rar

مقدمه

خاص کر ماہ مبارک رمضان میں وہابیوں کی طرف سے شیعوں پر کیے جانے والے اشکالات میں سے ایک یہ ہے کہ  شیعہ کیوں شب قدر کی راتوں میں قرآن کو سر پر رکھتے ہیں اور دعا کرتے ہیں ؟ قرآن تو پڑھنے اور عمل کرنے کے لئے ہے ،سر پر رکھنے کے لئے نہیں ہے ۔

ایک شیعہ مخالف چینل کا اینکر کہہ رہا تھا کہ شیعہ اس لئے قرآن سر پر رکھتے ہیں ، تاکہ  قرآن کے الفاظ پر ان کی نظر نہ پڑے اور وہ موحد ہو جائیں  ۔

 ہم جواب میں کہتے ہیں :اس میں شک نہیں ہے کہ قرآن تلاوت کرنے اور اس پر عمل کرنے کے لئے نازل ہوا ہے اور شیعہ تم لوگوں سے زیادہ قرآن سے آشنا ہیں اور قرآن پر عمل کرتے ہیں۔ لیکن کس نے کہا ہے کہ قرآن سر پر رکھنا حرام ہے ؟

 کیا رسول اللہ صلي الله عليه وآله ، ائمه اهل بيت عليهم السلام یا کسی صحابہ نے اس کام کو حرام قرار دیا ہے ؟

اب  اس کی حرمت پر نہ صرف دلیل نہیں ہے بلکہ اھل سنت کے علماء نے صحیح سند روایت نقل کی ہے کہ جناب امیر المومنین علیہ السلام قرآن سر پر رکھ کر دعا کرتے تھے ۔

ابو يوسف فسوي نے  المعرفة والتاريخ میں جس سند کے ساتھ اس کو نقل کیا ہے اس سند میں موجود تمام راوی  صحیح مسلم اور بخاری  اور  دوسری صحاح کے راوی ہیں ۔

(1295)- [3 : 78] حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ عليه السلام أَخَذَ الْمُصْحَفَ فَوَضَعَهُ عَلَي رَأْسِهِ حَتَّي لَأَرَي وَرَقَهُ يَتَقَعْقَعُ، ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ مَنَعُونِي أَنْ أَقُومَ فِي الْأُمَّةِ بِمَا فِيهِ، فَأَعْطِنِي ثَوَابَ مَا فِيهِ ... .

  ابو صالح حنفي سے نقل ہوا ہے : میں نے علي بن أبي طالب عليه السلام کو اس حالت میں دیکھا کہ آپ قرآن سر پر رکھے ہوئے تھے  ،یہاں تک کہ میں قرآن کے اوراق کے پلٹنے کی آواز بھی سنی اور قرآن سر پر رکھ کر  یوں دعا کرتے تھے : اے اللہ یہ لوگ مانع ہوئے ہیں کہ میں اس قرآن کے قانون کو اس امت میں جاری کر سکوں، پس خدایا جو کچھ قرآن میں ذکر ہوا ہے، اس پر عمل کرنے کا مجھے ثواب عطا فرما۔

الفسوي ، أبو يوسف يعقوب بن سفيان (متوفاي277هـ) ، المعرفة والتاريخ، ج 2، ص751، تحقيق: الدكتور أكرم ضياء العمري ، ناشر: ناشر: مكتة الدار ـ المدينة المنورة ، الطبعة الأولي ، 1410هـ .

ابن كثير الدمشقي، ابوالفداء إسماعيل بن عمر القرشي (متوفاي774هـ)، البداية والنهاية، ج 7، ص610، ناشر: مكتبة المعارف - بيروت.

البلاذري، أحمد بن يحيي بن جابر (متوفاي279هـ)، أنساب الأشراف، ج1، ص 348، طبق برنامه الجامع الكبير.

الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفاي 748 هـ)، سير أعلام النبلاء، ج 3، ص 144، تحقيق : شعيب الأرناؤوط , محمد نعيم العرقسوسي ، ناشر : مؤسسة الرسالة - بيروت ، الطبعة : التاسعة ، 1413هـ .

 

 

 

سند کی تحقیق :

عبد العزيز بن عبد الله بن يحيي بن عمرو بن أويس بن سعد بن أبي السرح:

یہ صحیح مسلم ، بخاری اور دوسری صحاح کے راویوں میں سے ہے ۔

عبد العزيز بن عبد الله العامري الأويسي الفقيه عن مالك ونافع بن عمر وعنه البخاري وأبو زرعة ثقة مكثر خ د ت ق

الكاشف في معرفة من له رواية في الكتب الستة ، ج1 ص656، رقم: 3397

عبد العزيز بن عبد الله بن يحيي بن عمرو بن أويس بن سعد بن أبي سرح الأويسي أبو القاسم المدني ثقة من كبار العاشرة خ د ت كن ق

تقريب التهذيب ج1 ص357 ، رقم: 4106

 

 

إبراهيم بن سعد بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف

یہ بھی صحیحین اور صحاح ستہ کے راویوں میں سے ہے ۔

إبراهيم بن سعد بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف الزهري أبو إسحاق المدني نزيل بغداد ثقة حجة تكلم فيه بلا قادح من الثامنة مات سنة خمس وثمانين ع

تقريب التهذيب ج1 ص89 ، رقم: 177

 

إبراهيم بن سعد الزهري العوفي أبو إسحاق المدني عن أبيه والزهري وعنه بن مهدي وأحمد ولوين وخلق توفي 183 وكان من كبار العلماء ع

الكاشف ج1 ص212 ، رقم: 138

شعبة بن الحجاج:

یہ بھی  صحاح ستہ کے راویوں میں سے یے ۔

شعبة بن الحجاج الحافظ أبو بسطام العتكي أمير المؤمنين في الحديث ولد بواسط وسكن البصرة سمع معاوية بن قرة والحكم وسلمة بن كهيل وعنه غندر وأبو الوليد وعلي بن الجعد له نحو من ألفي حديث مات في أول عام 16 ثبت حجة ويخطيء في الأسماء قليلا ع

الكاشف ج1 ص485 ، رقم: 2278

شعبة بن الحجاج بن الورد العتكي مولاهم أبو بسطام الواسطي ثم البصري ثقة حافظ متقن كان الثوري يقول هو أمير المؤمنين في الحديث وهو أول من فتش بالعراق عن الرجال وذب عن السنة وكان عابدا من السابعة مات سنة ستين ع

تقريب التهذيب ج1 ص266 ، رقم: 2790

محمد بن عبيد الله الثقفي:

یہ بھی صحیحین ، سنن ابی داود اور ترمذی کے راوی ہے ۔

محمد بن عبيد الله بن سعيد أبو عون الثقفي الكوفي الأعور ثقة من الرابعة خ م د ت س

تقريب التهذيب ج1 ص494 ، رقم: 6107

عبد الرحمن بن قيس ابو صالح الحنفي:

یہ بھی صحيح مسلم ، ابوداود  اور نسائي کے راویوں میں سے ہے :

عبد الرحمن بن قيس أبو صالح الحنفي الكوفي عن علي وابن مسعود وعنه بيان بن بشر وإسماعيل بن أبي خالد ثقة م د س

الكاشف ج1 ص641 ، رقم: 3295

عبد الرحمن بن قيس أبو صالح الحنفي الكوفي ثقة من الثالثة قيل إن روايته عن حذيفة مرسلة م د س

تقريب التهذيب ج1 ص349 ، رقم:3987

التماس دعا

تحقيقاتي ادارہ ،حضرت ولي عصر (عج)

 

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی